سیول،25اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی جنوبی کوریائی کثیرالقومی کمپنی سام سنگ کے وارث لی جے یونگ کو کرپشن کے پانچ الزامات کے تحت ایک عدالت نے پانچ برس کی قید کا حکم سنایا ہے۔ انچاس سالہ لی یونگ کو پانچ الزامات کا سامنا تھا، جن میں رشوت دے کر مراعات حاصل کرنا، مالی غبن، اثاثوں کو چھپانا اور حلف اٹھا کر حقائق کو چھپانا شامل ہیں۔جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل کی ایک عدالت میں مقدمے کی کارروائی کے دوران استغاثہ نے کرپشن الزامات کے تناظر میں یونگ کے لیے ایک الزام کے تحت بارہ سال اور چار الزامات میں دس برس قید سزا کی استدعا کی تھی۔ سام سنگ کے وارث پر ان الزامات کی گونج رواں برس فروری میں سنائی دی تھی۔
یونگ کے وکلاء نے استغاثہ کے الزامات کو بے بنیاد اور عدم شہادتوں سے عاری قرار دیا ہے۔ یونگ کے وکلاء نے اس ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایک وکیل سونگ وُو چوئل نے میڈیا کو بتایا کہ سارا فیصلہ ناقابل قبول ہے اور انہیں یقین ہے کہ اُن کے موکل معصوم ہیں اور اعلیٰ عدالت اُن کے حق میں فیصلہ دے گی۔
سیول کے سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں عدالتی کارروائی مکمل کی گئی۔ استغاثہ نے سام سنگ سے وابستہ دو کمپنیوں کے سن 2015میں ہونے والے انضمام کو غیرقانونی مالی منفعت کا ذریعہ قرار دیا۔ اس کے جواب میں وکلائے صفائی کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کا انضمام کُلی طور پر ایک کاروباری سودا تھا اور اس کا غیرقانونی ہونا کسی طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔استغاثہ نے اس پر بھی جرح کی کہ لی جے یونگ نے وعدہ دیا ہے کہ وہ سابقہ خاتون صدر پاک گبن ہَے کی حمایت اور حاصل کی جانے والی مراعات اور دوسرے اقدامات کے عوض 38.4ملین امریکی ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں۔ عدالتی فیصلے میں اس بابت کوئی حوالہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔